جِنہیں عمر بھر ہم بھُولاتے رہے/ سُمن پوکھريل
- Feb 2, 2015
- 1 min read
قدم پے قدم یُوں مِلاتے رہے
تیرے شان خوب ہم بڈھاتے رہے
ہمے رات دِن یاد آتے رہے
جِنہیں عمر بھر ہم بھُولاتے رہے
تجُربا موہبّت نہ تھا دونو کو
ہم دیکھتے رہے، وو شرماتے رہے
ھکِکط میں کھُسِیاں ن تھی وس ل کی
تسب بُر میں اُنہے پاس لاتے رہے
میرا ذکر جب بھی ہُوا بج م میں
حیا سے وو سُرخ چہرا چھُپاتے رہے
سِکس تی کے باد کِیا کام نیاں
مُقدّر کو یُوں ہم جگاتے رہے
! دیتا رہا دِل تُم اُن کو سُمن
جو جلاتے رہے بُجھاتے رہے






Comments