top of page

وہی حال دوبارہ ہوتا / سمن پوکھریل

  • Sep 7, 2018
  • 1 min read

بجم زیست کا کوئی اور ہی نظارہ ہوتا

مل گیا دلكو اگر تیرا سہارا ہوتا

سمجھتے آپ بھی جذبات کو میری طرح تو

کہتے ہو جسے اپنا، دل وہ ہمارا ہوتا

جی لیتے تاعمر عالم گم او نستر میں بھی

تیرے محبت نے جیتے جی اگر نہ مارا ہوتا

سوچتے ہیں پہنچکے موج محبت میں اب

اس زخم کا کاش کوئی کنارہ ہوتا

کھایا ہے چاند نے بھی ضرور فریب میری طرح

برنا کیوں ٹٹا کرتا بارہا، وہ بھی ستارہ ہوتا

اكلمندي كي ہے تم نے یوں مر کے سمن

دل کا کیا بھروسہ؟ وہی حال دوبارہ ہوتا

........................................................................

Read this Ghazal in Devnagari script here

........................................................................

Comments


  • Suman Pokhrel
  • Suman Pokhrel
  • Suman Pokhrel
  • allpoetry
  • goodreads
  • LinkedIn Social Icon
  • Suman Pokhrel
  • Suman Pokhrel
  • SoundCloud Social Icon
  • kavitakosh

Join our mailing list

Never miss an update

© Suman Pokhrel 2025

bottom of page